اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ.......میرے لڑکے شیخ مشتاق ابن شیخ چاند عرف ببو بھائی نے بڑی بہن نوشاد بیگم بنت عبدالغفار ساکن بگڑ گنج ناگپور کے نکاح میں رہتے ہوئے اس کی چھوٹی بہن شائستہ بیگم بنت عبدالغفار ساکن بگڑگنج ناگپور سے بھی نکاح کرلیا تھا۔ اور اس کے ساتھ جماع بھی کرلیا تھا۔ لیکن آپ کے یہاں سے فتویٰ لینے کے بعد اس نے چھوٹی بہن شائستہ بیگم بنت عبدالغفار کو اس کے والد کے یہاں پہنچا دیا ہے، اور بڑی بہن نوشاد بیگم بنت عبدالغفار کو اپنے قریبی رشتہ دار کے یہاں عدت کے لئے رکھ دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلی بیوی نکاح سے نکل گئی اب اس کو شوہر شیخ مشتاق ابن شیخ چاند اس سے بات چیت بھی نہیں کرسکتا اور دیکھ بھی نہیں سکتا، اگر ایسا ہے کہ اس کی واپسی کے لئے کیا صورت ہوگی۔ براہ کرم شریعت کی روح سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ نوٹ:۔ پہلے فتویٰ کی نقل اسی کے ساتھ دے رہاہوں۔ فقط شیخ چاند عرف ببو، ساکن مہیندرنگر، ناگپور

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسؤلہ میں چھوٹی بہن شائستہ سے علیحدگی کے بعد عدت کے ختم ہونے تک بڑی بہن نوشاد بیگم سے دوری رہیگی، عدت گذرنے کے بعد نوشاد بیگم سے وطی کرنا جائز ہے۔ وہ بدستور شیخ مشتاق کی بیوی ہے اور بدستور وہ نوشاد بیگم نکاح میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبدالقدیر غفرلہ الرشید۔ ۱۶/ربیع الاول ۱۴۲۰؁ھ یکم/ جولائی ۱۹۹۹؁ء

فقط والسلام

دارالافتاء:جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور

فتوی نمبر : 0002