اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

حَیَاتِ فَقِیہِ اَعْظَم

حضرت الحاج المفتی محمد عبدالرشید خان نعیمی فتحپوری رحمتہ اللہ علیہ

:ولادت باسعادت

تذکارفقیہ اعظم مفتی عبدالرشیدخان نعیمی فتحپوریفقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانامفتی عبدالرشیدخان صاحب نعیمی قدس سرہ،کی ولادت باسعادت،۷۱/رمضان المبارک ۳۲۳۱ھ مطابق ۵۱/نومبر۵۰۹۱ء کوکان پوراورالٰہ بادکے درمیان جی ٹی روڈپرواقع ضلع فتح پورکے ایک گاؤں ہسوہ کے زیدون محلہ میں ہوئی۔
خاندان:آپ کاتعلق یوسف زئی پٹھان خاندان سے تھا۔آپ کے والدگرامی محترم منشی عظیم دادخاں صاحب مرحوم فتح پورکے مشہورزمینداروں میں شمارکئے جاتے تھے۔اہل علم سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔آپ کاپوراخاندان نیک نامی کی اعلیٰ مثال تھا۔
تعلیم وتربیت:ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کی،مناظرہندحضرت علامہ سیدقطب الدین صاحب سہسوانی سے بھی ابتدامیں شرف تلمذحاصل کیا۔آپ کے برادرکبیرحضرت مولانامفتی عبدالعزیزخاں صاحب علیہ الرحمہ جامعہ نعیمیہ میں پہلے سے داخل تھے لہٰذا آپ بھی ۰۲۹۱ء میں جامعہ نعیمیہ میں داخل ہوگئے۔وہاں رہ کرآپ نے حضورصدرالافاضل علیہ الرحمہ اوردیگراساتذہ سے اکتساب علم فرمایا۔
دستارفضیلت:۲۲/شعبان المعظم۵۴۳۱ھ مطابق۵۲ فروری ۷۲۹۱؁ء میں جامعہ نعیمیہ سے سندفضیلت ودستارسے نوازے گئے۔آپ نے اپنی دستارفضیلت کے موقع پرجلسہ میں تقریربھی فرمائی۔آپ کے استادگرامی مفتی عمرنعیمی علیہ الرحمہ نے السوادالاعظم میں آپ کی تقریرکاذکرفرمایاہے۔ملاحظہ فرمائیں۔
”حضرت قبلہ (صدرالافاضل)مدظلہ العالی کی اس تقریرکے بعدطلبہ کی طرف سے مولوی عبدالرشیدفتحپوری نے اٹھ کربرجستہ وبرمحل تقریرکی۔جس میں مدرسہ اوراساتذہ اورخصوصیت کے ساتھ حضرت موصوف کاشکریہ اداکیا۔اوراظہارکیاکہ،درحقیقت آپ کے الطاف وعنایات وہ تھے کہ ہم والدین کی محبتوں کوبھول گئے۔ اورہمیں فراق کے کلمے بہت شاق گزرے۔ ہم عاقبت میں بھی آپ کے دامنوں کے ساتھ وابستہ رہنے کے آرزومندہیں۔تمام ہدایات پرجان ودل سے عامل رہیں گے۔ اورفرماں برداری میں کبھی قصورنہ ہوگا۔یہ تقریرمولوی عبدالرشیدصاحب نے ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ فرمائی، کہ ہرشخص آفرین کہہ رہاتھا۔]السوادالاعظم مرادآباد،رمضان،۵۴۳۱ھ ص۳۱،۴۱[
اسی سال آپ کے ساتھ مفتی احمدیارخاں نعیمی اورمفتی محمد یونس سنبھلی صاحب سابق مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآبادکی بھی فراغت ہوئی۔
مدارس واساتذہ:آپ نے علوم مروجہ کی تکمیل خصوصاًجامعہ نعیمیہ مرادآبادسے فرمائی۔اساتذہ میں خاص کرصدرالافاضل سے مستفیدومستفیض ہوئے۔
اپنی مادرعلمی جامعہ نعیمیہ مرادآبادسے متعلق آپ کادرج ذیل تاثرقابل مطالعہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔”فرماتے ہیں:
”ہندوستان بھرمیں گنتی کے چندمدرسے بڑے مدرسے کہلانے کے مستحق ہیں ان میں سے ایک ہمارامدرسہ ہے جس کانام مدرسہ اہل سنت وجماعت(جامعہ نعیمیہ) مرادآبادہے۔......راجپوتانہ میں جب ارتدادکاسیلاب امڈاتواس وقت سب سے پہلے میدان میں آنے والایہی مدرسہ اوراس کے سرپرست وطلباتھے جنہوں نے اپنے سرگرم مساعی سے میدان ارتدادمیں آریوں کی کوششوں کوناکام کردیااوران کے حوصلے پست ہوگئے۔اسلام کے ولولے دلوں میں پیداکئے۔اسی مدرسہ کی سرگرمیوں نے ملک کی دوسری جماعتوں کوابھارااورانہیں میدان عمل میں لاکرخدمت اسلام کے لئے کھڑاکردیا۔“]السوادالاعظم مرادآباد،ذوالقعدہ۷۴۳۱ھ ص۵۱،۷۱[
اپنے خصوصی کرم فرمااوراستادگرامی حضورصدرالافاضل کی بے لوث خدمات کاذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”یہ تمام فیوض حضرت صدرالافاضل دامت برکاتھم کے وجودمبارک کے ہیں۔اوراس مدرسہ کے لئے سب سے زیادہ قابل فخریہی ہے کہ اس کوحضرت ممدوح کی سرپرستی کی عزت حاصل ہے حضرت موصوف نے مدرسہ کے لئے اپناوقت ومال اورسب کچھ وقف کردیاہے۔اللہ تعالیٰ حضرت کی ذات مبارک کومدت ہائے درازتک مسلمانوں کے سروں پرسایہ فگن رکھے۔اورآپ کی برکات سے مسلمانوں کومستفیض فرمائے۔“]مرجع سابق[
شرف ارادت وخلافت:۴۲۹۱ء میں حضوراشرفی میاں علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے۔ اور۰۱/ربیع الاول ۸۴۳۱ھ مطابق ۶۱/اگست۹۲۹۱ء بروزجمعہ تمغہئ خلافت سے سرفرازفرمائے گئے۔
درس وتدریس:ملک کی متعددمشہوردانش گاہوں میں تدریسی خدمات انجا م دیں۔جن میں جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف اورجامعہ عربیہ ناگپورخاص کرقابل ذکرہیں۔حضرت سیداظہاراشرف صاحب جامعہ اشرفیہ اورجامعہ عربیہ میں آپ کی تدریسی خدمات پرتبصرہ کرتے ہوئے رقمطرازہیں:
”اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت کی پارسائی وجذبہ ذہنی کاسبھی کواعتراف رہاہے کچھ عرصہ تک جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف میں بھی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اورموجودہ دورکے خانوادۂ اشرفیہ کی جلیل القدرہستیوں میں آپ سے اکتساب فیض کرنے والے موجودہیں اوراتناعرصہ گزرجانے کے بعدبھی کچھوچھامقدسہ کاہروہ فردجس کوحضرت کی صحبت میں رہنے کاکچھ بھی اتفاق ہوگیاہے وہ آج بھی یادکرتاہے کچھوچھامقدسہ سے تشریف لے جانے کے بعدسرزمین ناگ پورمیں جامعہ عربیہ اسلامیہ کے نام سے ایک عربی ادارہ قائم فرماکرمدھیہ پردیش میں مسلک اہل سنت کاایک مستحکم قلعہ تعمیرکردیااورآج بھی بحمدہ تعالیٰ وہ ادارہ سنیت کی اشاعت میں نمایاں کام انجام دے رہاہے۔“]حیات مخدوم الاولیاء،ص۲۱۴،۳۱۴[
حج وزیارت:آپ نے دوحج اداکئے۔پہلاحج ۷۶۳۱ھ مطابق ۸۴۹۱ء میں۔اوردوسراحج ۸۸۳۱ھ مطابق ۸۶۹۱ء میں۔
پہلے حج سے متعلق الفقیہ اخبارمیں ”دیارحبیب کاپیارمسافر“کے عنوان سے آپ کی روانگی کی خبربھی شائع ہوئی۔ہم یہاں اسے نقل کردینامناسب سمجھتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔
”مسلمانان سی پی وبرارکویہ خبرسن کربے حدخوشی ہوگی۔کہ ایک مدت سے شوق زیارت حرمین کی سلگتی آگ اپنے سینے میں لے کرحضرت مفتی اعظم شیخ الجامعہ عربیہ دامت برکاتھم القدسیہ اس سال ۹۲/ستمبرکومحمدی جہازسے بہ نیت حج وزیارت ارض حجازکوروانہ ہوگئے ہیں۔حضرت کایہ مبارک سفریکایک ہوا۔یہی وجہ ہوئی کہ ہمارے اکثرحضرات کوخبرنہیں ہوئی۔بوقت رخصت حضرت موصوف نے عقیدت کیش نیازمندوں کے ہجوم میں نہایت دردبھرے اندازمیں مسلمانان ہندکی فلاح واقبال کے لئے دعافرمائی۔اورچلتے وقت عربی درسگاہ کی ایک ملی امانت جس کی آبیاری خودحضرت موصوف نے فرمائی ہے۔مسلمانان سی پی کے دینی التفات اوراسلامی وادیوں کے سپردفرمایا۔اپنی پراثردعاجاری رکھتے ہوئے فرمایاکہ مولائے کریم یہ دن تمام مسلمانوں کونصیب فرمائے۔کہ وہ دیارحبیب کی زیارت کریں۔اپنی سوختہ بختی کے ہم ہندی غلام بھی بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ خداوندقدوس سی پی کے اس محسن اعظم اورارض حجازکے اس پیارے مسافرکواپنی بے پناہ برکتوں کے ساتھ رحمت وفیضان کی سعادتوں میں بخیریت واپس لائے۔تاکہ ہم مہجورنیازکیشوں کوزائرحرم کی زیارت سے حصول تبرک کاموقع ملے۔فقط۔ناظم نشرواشاعت جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپورسی پی“]الفقیہ،امرت سر،۱۲/۸۲/اکتوبر۸۴۹۱ء ص۹[
تبحرعلمی:آپ معقولات ومنقولات کے جامع تھے۔علوم مروجہ میں ہرعلم پرکامل عبورحاصل تھا۔تفقہ فی الدین آپ کی طبیعت پرزیادہ غالب تھا۔فن تجویدوقراء ت، منطق،فلسفہ،حدیث واصول،جملہ علوم وفنون میں ماہراوریکتائے روزگارتھے۔آپ کے تبحرعلی کی ایک مثال یہاں پیش کردینامناسب معلوم ہوتاہے۔
صدرالافاضل کے زیرسرپرستی نکلنے والے رسالہ ”السوادالاعظم مرادآباد“ میں فقہی معمے کاایک کالم ہوتاتھا۔جس میں ماہ بماہ چندعلمی پہیلیاں پیش کی جاتیں تھیں۔اوران کوسلجھانے کی دعوت فکردی جاتی تھی۔
ماہ جمادی الاخری ۵۴۳۱ھ ص۹۱، میں درج ذیل جواب طلب سوالات”فقہی معمے“ کے نام سے پیش کئے گئے۔
۱۔ وہ کون موزوں پرمسح کرنے والاشخص ہے جس کومدت مسح گزرنے پربھی موزوں پرمسح کرناجائزہے؟
۲۔ وہ کون موزہ ہے جس پرمسح کرنے کے بعدموزے کوپاؤں سے نکالاتوپاؤں دھونانہیں چاہئے؟
۳۔ وہ کون موزے ہیں جن کوطہارت کاملہ پرپہنااورنکالابھی نہیں مگرپاؤں دھونے واجب ہیں؟
۴۔ وہ عورت ہے جس کے بچہ پیداہونے کے بعدہی خون جاری ہونے پربھی وہ صاحبہ نفاس نہیں؟
۵۔ وہ کون آیت تامہ ہے جس کاپڑھناجنب کوبے نیت دعاجائزہے؟
۶۔ وہ کون وضوکرنے والامعذورہے جواس وضوسے دوسرے وقت کی ادانمازپڑھ سکتاہے؟
ان سوالات کے جوابات جوسب سے پہلے موصول ہوئے۔اوررسالہ”السوادالاعظم“میں،رجب المرجب،۵۴۳۱ھ کو شائع ہوئے۔ وہ فقیہ اعظم ہندعلیہ الرحمہ کے تھے۔اس وقت حضرت جامعہ نعیمیہ میں زیرتعلیم تھے۔مفتی عمرنعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”فقہی معموں کے جواب کئی جگہ سے موصو ل ہوئے لیکن مولوی عبدالرشیدصاحب متعلم مدرسہ اہل سنت مرادآباد کے جواب سب سے پہلے موصول ہوئے۔طبع کئے جاتے ہیں۔“
جوابات بھی پیش ہیں ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ جس کوموزہ اتارنے سے سردی کے باعث پاؤں ضائع ہونے کاقوی اندیشہ ہومدت سے زیادہ مسح کرسکتاہے۔عالمگیری میں ہے:ولوخاف من نزع خفیہ علی ذھاب قدمیہ من البردجازلہ المسح وان طالت المدۃ ھکذافی بحرالرائق
۲۔ دوتہ والے موزہ کی ایک تہ اتاردینے سے پاؤں دھونے یامسح کااعادہ ضروری نہیں۔
ہندیہ میں ہے۔
واذامسح علی خفین ذی طاقین فنزع احدالطاقین لایعیدالمسح علی الطاق الاخر۔
۳۔ اگرموزے میں پانی بھرکرپاؤں کازیادہ حصہ دھل گیاتومسح جاتارہادرمختارمیں ہے۔
وینتقض أیضا بغسل أکثر الرجل فیہ لو دخل الماء خفہ،ھٰکذافی الہندیہ۔
۴۔ جس عورت کے زخم شکم کے باعث ولادت ناف سے واقع ہوگئی اس کاخون نفاس نہیں۔عالمگیری میں ہے۔
ولو ولدت من قبل سرتہا بأن کان ببطنہا جرح فانشقت وخرج الولد منہا تکون صاحبۃ جرح سائل لا نفساء،ہٰکذافی الظہیروالتبیین۔
۵۔ جنب کوآیت مبارکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کابہ نیت ثنااورمتوحش خبرپراناللہ واناالیہ راجعون یاایسی ہی کسی چھوٹی آیت کاعادۃ پڑھ دیناجائزہے۔کبیری میں ہے۔
لوسمع خبراساراالحمدللّٰہ اورخبرسوء فقال اناللّٰہ واناالیہ راجعون وکذاقراء ۃ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم علی وجہ الثناء لاعلی قصدالقرآن یجوز۔عالمگیری میں ہے۔
ولا تحرم قراء ۃ آیۃ قصیرۃ تجری علی اللسان عند الکلام کقولہ تعالی (ثم نظر) أو (ولم یولد) ہکذا فی الخلاصۃ۔
۶۔ جس صاحب عذرنے عیدکی نمازکے لئے وضوکیااسی وضوسے ظہرپڑھ سکتاہے۔
ہندیہ میں ہے۔لو توضأ المعذور لصلاۃ العید لہ أن یصلی الظہر بہ۔
ناچیزعبدالرشید فتحپوری
]”السوادالاعظم“میں،رجب المرجب،۵۴۳۱ھ ص۲[
خدمات:آپ نے مذہبی،ملی،سیاسی،سماجی،ادبی،علمی ہرمیدان میں کارنامہائے نمایاں انجام دئے۔آپ کی خدمات کااحاطہ ایک مشکل امرہے۔جامعہ عربیہ ناگپورآپ کاایک بڑاکارنامہ ہے۔اس ادارہ کوآپ نے خودقائم کیاتھا۔۷/ذیقعدہ ۶۵۳۱ھ مطابق۹/جنوری۸۳۹۱ء محلہ نعل صاحب ناگپورمیں یہ ادارہ معرض وجودمیں آیا۔اورآپ کی بے لوث جدوجہدسے مشہورمدارس کی صف میں شامل ہوگیا۔آپ اس ادارہ سے آخری دم تک وابستہ رہے۔
تلامذہ:تلامذہ کی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے۔چندمشہورتلامذہ کے اسماء حسب ذیل ہے۔
۱۔ حضرت علامہ مولاناسیدمختاراشرف نعیمی کچھوچھوی
۲۔ حضرت علامہ مولاناسیدمظفرحسین نعیمی کچھوچھوی۔
۳۔ حضرت مولاناآل حسن نعیمی سنبھلی
۴۔ حضرت علامہ ارشدالقادری مصباحی بلیاوی
۵۔ حضرت علامہ عبدالرؤف مصباحی بلیاوی
۶۔ حضرت مولاناسیدشاہ امیراشرف کچھوچھوی
تصنیفات:تدریس سے گہراربط ہونے کے سبب تصنیف وتالیف کوزیادہ وقت نہ دے سکے۔البتہ چندکتابیں ایسی تحریرفرمائیں جنہیں قبول عام حاصل ہوا۔
ہندوپاک کے مشہوراخبارات ورسائل،جیسے اخبار”الفقیہ امرت سر“اوررسالہ ”السوادالاعظم“مرادآباد، میں آپ کے مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔اگریکجاکرکے ترتیب دئے جائیں توایک ضخیم کتاب تیارہوجائے۔
تسہیل المصادر:آپ کی تصنیفات میں زیرنظرکتاب تسہیل المصادربھی ہے۔فارسی ادب میں یہ ایک بنیادی کتاب ہے۔اس کی اہمیت کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ ہندوپاک کے اکثرمدارس میں یہ کتاب نصاب میں داخل ہے۔اوراس میں صدرالافاضل کی کرم فرمائی شامل ہے۔مولاناسیدعبدالواحدصاحب انسپکٹرتعلیم بریلی شریف کے نام صدرالافاضل کے درج ذیل خط سے جس کی شہادت ملتی ہے۔آ پ نے سیدصاحب کوتحریرفرمایا:
”مولاناعبدالرشیدخاں صاحب سلمہ جے پورکے ہیں۔
تشریف لاتے ہیں۔انہوں نے بچوں کی تعلیم کے لئے ایک ابتدائی قاعدہ تصنیف کیاہے۔جس کی خوبی آپ ملاحظہ سے معلوم فرمائیں گے۔
اگرآپ کے ماتحت مدارس میں یہ رائج ہوجائے تومولاناموصوف کی حوصلہ افزائی ہوگی۔....والسلام
محمدنعیم الدین عفی عنہ
تاثرات:آپ کی ذات والاصفات علماے کرام کے درمیان مستندومسلم تھی۔آپ کی دینی سرگرمیاں،علمی کارنامے،مذہبی بے لوث خدمات،آپ کے تقوی وپرہیزگاری،کے اعتراف میں مشائخ ومعاصرعلمانے اپنے قیمتی تاثرات سپردقرطاس فرمائے۔ہم یہاں دوچندنقل کردیتے ہیں۔
صدرالافاضل:آپ کے استادگرامی حضورصدرالافاضل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”مبسملاوحامداومصلیا
حقیقت امریہ ہے کہ جامعہ اوراس کے بانی عزیزی مولوی محمدعبدالرشیدصاحب سلمہ اس سے مدجہازیادہ مدح وثناکے مستحق ہیں جتناہم اپنی زبان سے کہیں یاقلم سے لکھیں جوایثارمولاناموصوف نے دیااوراپنے آپ کومٹاکرجس حیرت انگیزطریقے پرجامعہ کواس قلیل عرصے میں ترقی کی منزل پرپہنچایاکوئی معائنہ نویس اس کوپوری طرح ادانہیں کرسکامولیٰ سبحانہ،مولاناکے عمروحیات وجاہ واثرمیں برکت فرمائے اورروزافزوں ترقیاں عطاکرے۔آمین۔“محمدنعیم الدین عفی عنہ المعین
۹۱/صفر۳۶۳۱ھ]حیات فقیہ اعظم ص۶[
مفتی اعظم ہند:مفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ فرماتے ہیں
”اس دور کا تو کہنا کی کیا ہے جب حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمۃ خود درس دیتے تھے۔اس باغ سنت میں.....مولانا مفتی عبدالرشید خانصاحب.... وغیرہ جیسے پھول کھلے ہیں۔
]رودادجامعہ نعیمیہ مرادآباد)
صدرالشریعہ:صدرالشریعہ فرماتے ہیں:
”مفتی صاحب اوراساتذہ کی بے لوث خدمات قابل قدرہیں“]حیات فقیہ اعظم ص۶[
محدث اعظم ہند:حضورمحدث اعظم ہند فرماتے ہیں:
”مجھے اچھی طرح یادآگیاکہ اس وقت بانی جامعہ حضرت مولانامفتی عبدالرشیدخاں صاحب دامت برکاتھم کے ایثاروقربانی کی کرامت نے مجھ کوحیرت میں ڈال رکھاتھا۔“]حیات فقیہ اعظم ص۴۱[
سیدمحمدجیلانی محامد:حضرت سیدمحمدجیلانی محامدمدیرالمیزان بمبئی،رقمطرازہیں:
”لیکن وہ مردمجاہدجسے آج کی اسلامی دنیابقیۃ السلف مفتی اعظم مہاراشٹرحضرت علامہ مفتی عبدالرشیدصاحب کے نام سے جانتی ہے۔....۴۲/دسمبر۴۷۹۱ء کودارفانی سے رخصت فرماکرمحبوب حقیقی سے جاملے۔...۷۲/دسمبر۴۷۹۱ء کوایک کھلے اجلاس میں شیخ الجامعہ کے نتقال کوملت اسلامیہ کابھاری نقصان قراردیاہے۔“]المیزان،جولائی،اگست،۶۷۹۱ء ص۹۱،۳۲[
سفرآخرت:۹/ذی الحجہ ۴۹۳۱ھ مطابق۴۲/دسمبر۴۷۹۱ء بعدنمازعصرآپ دارفناسے داربقاکی طرف کوچ فرماگئے۔دوسرے روزبقرعیدکے دن بعدنمازظہرآپ کی نمازجنازہ اداکی گئی۔ اورمومن پورہ مرکزی قبرستان میں واقع اولیاء مسجدسے متصل آپ مدفون ہوئے۔آپ کاآستانہ آج بھی مرجع خلائق بناہواہے۔اوروصال کی تاریخ میں آپ کے اخلاف عرس کی تقریبات بھی منعقدکرتے ہیں۔
اللہ پاک حشرتک آپ کی مرقدپرانوارپرنورافشانی فرمائے۔اورہمیں آپ کے فیوض وبرکات سے مستفیض فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین الکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم
احقرالعبادمحمدذوالفقارخان نعیمی ککرالوی
نوری دارالافتاء مدینہ مسجدمحلہ علی خاں کاشی پور